(۳۵۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قِرَائَ ۃً وَحَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الصَّیْدَلاَنِیُّ لَفْظًا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنِی إِدْرِیسُ یَعْنِی ابْنَ یَحْیَی عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَرْمَلَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِالنَّاسِ ، فَمَرَّ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ حِمَارٌ۔ فَقَالَ عَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ: سُبْحَانَ اللَّہِ سُبْحَانَ اللَّہِ۔ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ؟))۔ قَالَ فَقَالَ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ، إِنِّی سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ۔ قَالَ : ((لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ شَیْئٌ))۔ [حسن۔ اخرجہ الدار قطنی ۱/ ۳۶۷]
(٣٥٠٦) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ کے آگے سے ایک گدھا گزرا تو عیاش بن ابی ربیعہ (رض) نے کہا : سبحان اللہ، سبحان اللہ ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : ابھی ابھی سبحان اللہ کس نے پڑھا ؟ عیاش (رض) نے کہا : میں نے اے اللہ کے رسول ! میں نے سنا تھا کہ گدھا (آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، یعنی کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔