(۳۵۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ حَمُّوَیْہِ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَیْسَرَۃَ عَنِ الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً صَفَّ بَیْنَ قَدَمَیْہِ یَعْنِی فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: أَخْطَأَ السُّنَّۃَ ، أَمَّا إِنَّہُ لَوْ رَاوَحَ کَانَ أَحَبَّ إِلَیَّ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ صَفَّ قَدَمَیْہِ وَضَمَّہُمَا فِی الصَّلاَۃِ۔ فِیمَا مَضَی أَنَّہُ قَالَ: صَفُّ الْقَدَمَیْنِ وَوَضْعُ الْیَدِ عَلَی الْیَدِ مِنَ السُّنَّۃِ۔
وَحَدِیثُ ابْنِ الزُّبَیْرِ مَوْصُولٌ ، وَحَدِیثُ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلٌ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ النسائی ۸۹۲]
(٣٥٧٠) (ا) ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز میں اپنے قدم ملائے ہوئے تھے تو فرمایا : اس نے حدیث سمجھنے میں غلطی کی۔ اگر یہ ان میں فاصلہ کرلیتا تو مجھے زیادہ اچھا لگتا۔
(ب) ہمیں عبداللہ بن زبیر (رض) کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ انھوں نے نماز میں اپنے قدموں کو ملایا تھا۔
(ج) عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت گزر چکی ہے کہ نماز میں قدموں کو ملانا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔