(۳۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- حَجَّتَہُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ - قَالَ - فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَانْحَرَفَ ، فَإِذَا ہُوَ بِرَجُلَیْنِ فِی أُخْرَیَاتِ الْقَوْمِ لَمْ یُصَلِّیَا مَعَہُ قَالَ : ((عَلَیَّ بِہِمَا))۔ فَأُتِیَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا قَالَ : ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَنَا؟))۔ قَالاَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فِی رِحَالِنَا۔ قَالَ : ((فَلاَ تَفْعَلاَ، إِذَا صَلَّیْتُمَا فِی رِحَالِکُمَا ثُمَّ أَتَیْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَۃٍ فَصَلِّیَا مَعَہُمْ ، فَإِنَّہَا لَکُمَا نَافِلَۃٌ))۔
[صحیح۔ مضی تخریجہ فی الحدیث ۳۶۴۰]
(٣٦٤٤) حضرت یزید بن اسود (رض) بیان فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کے لیے حاضر ہوا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی بیٹھے ہیں جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں میرے پاس لاؤ۔ ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا، وحشت و گھبراہٹ سے ان کے جسم کپکپا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو۔ جب تم گھر میں نماز پڑھ چکے ہو پھر مسجد میں آؤ اور جماعت ہو رہی ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔