(۳۶۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْخُزَاعِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْفَجْرَ بِمِنًی فَانْحَرَفَ ، فَأَبْصَرَ رَجُلَیْنِ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ ، فَدَعَا بِہِمَا فَجِیئَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا فَقَالَ : ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ؟))۔ قَالاَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّیْنَا فِی الرَّحْلِ۔ قَالَ : ((لاَ تَفْعَلُوا ، إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ أَدْرَکَ الصَّلاَۃَ مَعَ الإِمَامِ فَلْیُصَلِّہَا مَعَ الإِمَامِ ، فَإِنَّہَا لَہُ نَافِلَۃٌ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَوَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَغَیْرُہُمَا عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ وَخَالَفَہُمْ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ فَرَوَاہُ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مضی سابقا، وانظر ماقبلہ]
(٣٦٤٥) حضرت یزید بن اسود خزاعی (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلوایا۔ انھیں لایا گیا اور وہ ڈرے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم گھر سے نماز پڑھ آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس طرح نہ کیا کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، پھر امام کے ساتھ باجماعت نماز پالے تو امام کے ساتھ دوبارہ پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی۔