(۳۶۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی فِی بَیْتِہِ ثُمَّ یُدْرِکُ الْجَمَاعَۃَ قَالَ: یُصَلِّیہَا مَعَہُمْ۔ قَالَ قُلْتُ: فَبِأَیِّہِمَا یَحْتَسِبُ؟ قَالَ: بِالَّذِی صَلَّی مَعَ الإِمَامِ فَإِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صَلاَۃُ الرَّجُلِ فِی الْجَمِیعِ تَزِیدُ عَلَی صَلاَتِہِ وَحْدَہُ خَمْسًا وَعِشْرِینَ صَلاَۃً))۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی ۴۸۶]
(٣٦٤٨) حضرت داؤد بن ابی ہند (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے۔ پھر جماعت کو بھی پا لیتا ہے تو انھوں نے فرمایا : وہ جماعت کے ساتھ بھی پڑھے۔ میں نے کہا : اس کو کونسی نماز کا بطور فرض ثواب ملے گا ؟ انھوں نے فرمایا : جو اس نے باجماعت پڑھی ہوگی، کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز (اجر وثواب کے لحاظ سے) اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے۔