(۳۸۴۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاہِیمَ: وَالْوَہَمُ مِنِّی - فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَزِیدَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ فَقَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ))۔ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ۔
وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَفِی حَدِیثِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ سُجُودَہُ کَانَ بَعْدَ قَوْلِہِ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ
وَقَدْ مَضَی فِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- سَجَدَ أَوَّلاً ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَہُوَ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ صَحِیحًا مِنْ رِوَایَۃِ مَنْ تَرَکَ التَّرْتِیبَ فِی حِکَایَتِہِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٨٤٣) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم (رح) کہتے ہیں : یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں، پھر رسول اللہ واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔