(۳۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ ، الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ - وَأَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّہُ قَالَ: الظُّہْرَ - فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، وَقَامَ إِلَی خَشَبَۃٍ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَہُوَ غَضْبَانُ ، فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہَا وَفِی النَّاسِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ ، فَہَابَاہُ أَنْ یُکَلِّمَاہُ ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ ، وَفِی النَّاسِ رَجُلٌ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْعُوہُ ذُو الْیَدَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَسِیتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلاَۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَۃُ))۔ قَالَ: بَلْ نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((صَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ ، أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَأَکْثَرُ ظَنِّی أَنَّہَا الْعَصْرُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۸۲۔ ۱۲۲۹]
(٣٨٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں : میرا غالب گمان ہے کہ انھوں نے عصر کا کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ گاہ کے سامنے لگی ہوئی لکڑی کے پاس گئے اور اس پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار نمایاں تھے، پھر جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے کہ نماز کم ہوگئی ؟ نماز کم ہوگئی ؟ چلے گئے ۔ وہاں موجود لوگوں میں ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے لیکن وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے، لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔ اس نے کہا : تب آپ بھول گئے ہیں۔ آپ نے پوچھا : کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باقی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا۔
(ب) ایک روایت میں ” و اکثر ظنی انہا لعصر “ کے الفاظ ہیں۔