(۳۹۱۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ ، وَکَانَ طَوِیلَ الْیَدَیْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا یَجُرُّ رِدَائَ ہُ فَقَالَ : ((أَصَدَقَ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ فَقَامَ فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْہِمَا ، ثُمَّ سَلَّمَ ۔
وَقَالَ ابْنُ عُلَیَّۃَ: ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَہُ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۷۴]
(٣٩١٢) (ا) عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر (اپنے گھر) چلے گئے۔ ایک شخص ان کی طرف کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے وہ لمبے ہاتھوں والا تھا، بولا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی (جو رہ گئی تھی) پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں : ” ثم دخل بمنزلہ “ باقی اس کے بمعنی روایت ہے۔