(۴۰۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَلاَتُہُ ، فَإِنْ کَانَ أَکْمَلَہَا کُتِبَتْ لَہُ کَامِلَۃً ، وَإِنْ لَمْ یُکْمِلْہَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی لِمَلاَئِکَتِہِ: ہَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِی تَطَوُّعًا تُکَمِّلُوا بِہِ مَا ضَیَّعَ مِنْ فَرِیضَتِہِ۔
ثُمَّ الزَّکَاۃُ مِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ سَائِرُ الأَعْمَالِ عَلَی حَسَبِ ذَلِکَ۔
رَفَعَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَوَقَفَہُ غَیْرُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۲/۴۷۹]
(٤٠٠٢) تمیم داری (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بندے سے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر اس کی نماز پوری نکلی تو پوری ہی لکھی جائے گی اور اگر اس کی نماز مکمل نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا : دیکھو میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں اگر ہیں تو فرضوں کی کمی ان نفلوں کے ساتھ پورا کر دو ۔ پھر زکوۃ کا حساب اس طرح ہوگا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق ہوگا۔