(۴۰۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلاَۃُ الْمَکْتُوبَۃُ ، فَمَنْ أَتَمَّہَا حُوسِبَ بِمَا سِوَاہَا ، وَإِنْ کَانَ قَدِ انْتَقَصَہَا قِیلَ انْظُرُوا ہَلْ لَہُ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٍ أُکْمِلَتِ الْفَرِیضَۃُ مِنَ التَّطَوُّعِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ تَطَوُّعٌ لَمْ تُکْمَلِ الْفَرِیضَۃُ ، وَأُخِذَ بِطَرَفَیْہِ فَقُذِفَ فِی النَّارِ۔
وَوَقَفَہُ کَذَلِکَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَحَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔
وَرَوَاہُ یَزِیدُ الرَّقَاشِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ وَأَتَمَّ مِنْہُ۔
وَرَوَی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ فِی ہَذَا الْمَعْنَی مَا یُشْبِہُ خِلاَفَ ہَذَا۔[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٤٠٠٣) (ا) تمیم داری (رض) سے روایت ہے کہ قیامت کے دن آدمی سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ فرض نماز ہے۔ اگر اس کی نماز مکمل نکل آئی تو باقی حساب بھی لیا جائے گا اور اگر اس کی نماز میں کوئی کمی ہوئی تو کہا جائے گا : دیکھو کیا اس آدمی کے پاس نوافل ہیں ؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو ان نوافل سے اس کے فرائض کو مکمل کیا جائے گا اور اگر نوافل نہ ہوئے تو فرائض مکمل نہ ہوں گے اور اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
(ب) اس روایت کو یزید رقاشی نے نبی (علیہ السلام) سے انس بن مالک (رض) کے واسطے سے نقل کیا ہے اور یہ حضرت تمیم داری (رض) کی نماز اور زکوۃ والی روایت کے ہم معنیٰ ہے۔