(۴۱۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ مَعَ نَبِیِّ اللَّہِ ﷺ إِذْ جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَقَامَ یَبُولُ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ: مَہْ مَہْ۔فَقَالَ: ((دَعُوہُ))۔ فَتَرَکُوہُ حَتَّی بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ: ((إِنَّ ہَذِہِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ، إِنَّمَا ہِیَ لِذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی وَالصَّلاَۃِ، وَقِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ))۔أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَائَ بِدَلْوٍ مِنْ مَائٍ ، فَرَشَّہُ عَلَیْہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۱۹-۲۲۱-۶۰۲۵]
(٤١٤٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک دیہاتی آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا۔ صحابہ کرام (رض) اسے روکنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ۔ صحابہ نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مساجد ہیں، ان میں پیشاب اور گندگی درست نہیں یہ تو اللہ کے ذکر نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہیں یا جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لے کر آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پیشاب پر بہا دیا۔