(۴۷۳۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : ہَذِہِ فُلاَنَۃُ تَذْکُرُ مِنْ صَلاَتِہَا۔فَقَالَ : ((مَہْ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا ، وَأَحَبُّ الدِّینِ مَا دُووِمَ عَلَیْہِ))۔
قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ : قَوْلُہُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : ((فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا))۔قَالَ فِیہِ بَعْضُہُمْ : لاَ یَمَلُّ مِنَ الثَّوَابِ حَتَّی تَمَلُّوا مِنَ الْعَمَلِ۔وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یُوصَفُ بِالْمَلاَلِ ، وَلَکِنَّ الْکَلاَمَ أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْمُحَاذَاۃِ اللَّفْظِ بِاللَّفْظِ ، وَذَلِکَ سَائِغٌ فِی کَلاَمِ الْعَرَبِ وَعَلَی ذَلِکَ خَرَجَ قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَجَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا} [الشوری: ۴۰] قُوبِلَتْ السَّیِّئَۃُ الأُولَی الَّتِی ہِیَ ذَنْبٌ بِالْجَزَائِ عَلَی لَفْظِ السَّیِّئَۃِ ، وَالْقِصَاصُ عَدْلٌ لَیْسَ بِسَیِّئَۃٍ ، وَکَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی { فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ: ۱۹۴] وَاقْتِصَاصُہُ لَیْسَ بِظُلْمٍ وَلاَ عُدْوَانٍ ، فَأُخْرِجَ فِی اللَّفْظِ لِلْمُحَاذَاۃِ عَلَی الاِعْتِدَائِ ، وَالْمَعْنَی لَیْسَ بِاعْتِدَائٍ ، فَکَذَلِکَ قَوْلُہُ : فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا ۔أُخْرِجَ مُحَاذِیًا للَّفْظِ حَتَّی تَمَلُّوا ، وَالْمَعْنَی لاَ یَقْطَعُ عَنْہُمْ ثَوابَ أَعْمَالِہِمْ مَا لَمْ یَمَلُّوا فَیَتْرُکُوہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(٤٧٣٨) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عائشہ (رض) کے پاس آئے تو فرمایا : یہ فلاں عورت ہے اور اس کی نماز کا تذکرہ کیا جاتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رک جا۔ اللہ نہیں اکتائے گا تم اکتا جاؤ گی اور سب سے زیادہ اچھی عبادت وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے۔
(ب) ابوبکر اسماعیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ( (فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا) ) کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ ثواب سے نہیں اکتائے گا تم عمل سے اکتا جاؤ گے۔
(نوٹ) اللہ کے لیے لفظ ملال کا استعمال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں ہیں۔
(ج) صرف الفاظ کو برابر کرنے کے لیے لائے ہیں۔ یہ کلامِ عرب میں جائز ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے { وَجَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا } [الشوری : ٤٠] پہلا لفظ سیۃ اس سے مراد گناہ ہے اور دوسرے لفظ سے مراد بدلہ ہے۔
قصاص عدل ہے برائی نہیں جیسے اللہ کا فرمان ہے : { فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ : ١٩٤] ان پر اتنی زیادتی کرو جتنی انھوں نے تم پر کی ہے۔
قصاص میں نہ ظلم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادتی، لیکن ایک جیسے الفاظ کا استعمال صرف الفاظ کی برابری کے لیے ہے۔