(۴۸۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بِکَمْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُوتِرُ؟ قَالَتْ : کَانَ یُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلاَثٍ وَسِتٍّ وَثَلاَثٍ وَثَمَانٍ وَثَلاَثٍ وَعَشْرٍ وَثَلاَثٍ ، وَلَمْ یَکُنْ یُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ ، وَلاَ بِأَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ۔زَادَ أَحْمَدُ : وَلَمْ یَکُنْ یُوتِرُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔
قُلْتُ : مَا یُوتِرُ؟ قَالَتْ : لَمْ یَکُنْ یَدَعُ ذَلِکَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ أَحْمَدُ : وَسِتٍّ وَثَلاَثٍ۔وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یُرِیدُ بِہِ ثَلاَثًا لاَ یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِجُلُوسٍ وَلاَ تَسْلِیمٍ ، فَیَکُونُ فِی مَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فِی الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ۔
[قوی۔ ابوداؤد ۱۳۰۶۲]
(٤٨٠٤) عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کتنے تھے ؟ وہ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار اور تین، چھ اور تین، آٹھ اور تین، دس اور تین اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور تیرہ سے زیادہ اور احمد نے زیادہ کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی دو رکعات سے وتر نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کیسے تھے ؟ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کبھی نہیں چھوڑا۔ احمد نے چھ اور تین کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ ممکن ہے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین وتر پڑھتے نہ تو درمیان میں بیٹھتے اور نہ سلام پھیرتے تھے۔
(ب) ہشام بن عروہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔