(۴۹۲۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّی وَخَالَتِی أُمُّ حَرَامٍ۔فَقَالَ : ((قُومُوا فَلأُصَلِّی بِکُمْ وَذَاکَ فِی غَیْرِ وَقْتِ الصَّلاَۃِ))۔فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ : فَأَیْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ : عَنْ یَمِینِہِ قَالَ : فَدَعَا لَنَا أَہْلُ الْبَیْتِ بِکُلِّ خَیْرٍ مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔فَقَالَتْ أُمِّی : یَا رَسُولَ اللَّہِ خُوَیْدِمُکَ ادْعُ اللَّہَ لَہُ ، فَدَعَا لِی بِکُلِّ خَیْرٍ۔فَکَانَ آخِرَ مَا دَعَا لِی اللَّہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ وَبَارِکْ لَہُ فِیہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۳۲۸]
(٤٩٢٦) ثابت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور گھر میں، میں، میری والدہ اور خالہ ام حرام تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ ایک شخص نے ثابت سے کہا : تو انس (رض) کہاں کھڑے ہوئے ؟ فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر والوں کے لیے دنیا، آخرت کی بھلائیوں کی دعا کی۔ میری ماں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چھوٹا خادم ہے اس کے لیے بھی دعا کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے بھی ہر بھلائی کی دعا کی۔ آخری جو دعا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے کی یہ تھی اے اللہ ! تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے اس میں برکت عطا فرما۔