(۴۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُزَفِیُّ الْحَرْبِیُّ فِی مَسْجِدِ الْحَرْبِیَّۃِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَیْسِ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الأَقْمَرِ یَذْکُرُ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللَّہَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلَی ہَؤُلاَئِ الصَّلَوَاتِ حَیْثُ یُنَادَی بِہِنَّ۔فَإِنَّ اللَّہَ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ -ﷺ- سُنَنَ الْہُدَی ۔وَإِنَّہُنَّ مِنْ سُنَنِ الْہُدَی ، وَلَوْ أَنَّکُمْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ہَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ۔وَمَا مِنْ رَجُلٍ یَتَطَہَّرُ فَیُحْسِنُ الطُّہُورَ ، ثُمَّ یَعْمِدُ إِلَی مَسْجِدٍ مِنْ ہَذِہِ الْمَسَاجِدِ ، إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوہَا حَسَنَۃً ، وَرَفَعَہُ بِہَا دَرَجَۃً ، وَحَطَّ عَنْہُ بِہَا سَیِّئَۃً ، وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُہُ۔وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یُؤْتَی بِہِ یُہَادَی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتَّی یُقَامَ فِی الصَّفِّ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۴]
(٤٩٥٢) ابواحوص فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کردیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔