(۵۱۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْہَاجِرَۃِ فَوَجَدْتُہُ یُسَبِّحُ فَقُمْتُ وَرَائَ ہُ۔فَقَرَّبَنِی حَتَّی جَعَلَنِی عَنْ یَمِینِہِ فَلَمَّا جَائَ یَرْفَأُ تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا ورَائَ ہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِذَا کَانُوا ثَلاَثَۃً یَقُومُ الاِثْنَانِ وَرَائَ ہُ۔ [صحیح۔ مالک ۳۶۰]
(٥١٥٩) (الف) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس دوپہر کے وقت آیا۔ میں نے ان کو پایا، وہ نفل پڑھ رہے تھے، میں ان کے پیچھے ہوگیا تو انھوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ جب وہ آئے تو میں نے پیچھے ہٹنے میں ان کی موافقت کی، حضرت عمر (رض) کے پیچھے ہم نے صفیں بنالیں۔
(ب) حضرت عمر اور حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ جب تین ہوتے تو دو پیچھے کھڑے ہوتے۔