hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5306

.

سنن البيهقي

5306
Sunan Al Bayhaqi
(۵۳۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَہَبَ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ وَحَانَتِ الصَّلاَۃُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَتُصَلِّی بِالنَّاسِ فَأُقِیمَ۔قَالَ نَعَمْ : فَصَلَّی أَبُوبَکْرٍ۔ فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسُ فِی الصَّلاَۃِ۔فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِی الصَّفِّ۔فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَلْتَفِتُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِیقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ۔فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی اسْتَوَی فِی الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا کَانَ لاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ مِنَ التَّصْفِیحِ مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُسَبِّحْ فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَیْہِ۔فَإِنَّمَا التَّصْفِیحُ لِلنِّسَائِ))۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۵۲۵۴]
(٥٣٠٦) سھل بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو عمرو بن عوف کی طرف صلح کی خاطر گئے اور نماز کا وقت ہوگیا۔ مؤذن ابوبکر (رض) کے پاس آئے تاکہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ اقامت ہوچکی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ٹھیک، آپ (رض) نے نماز پڑھائی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور لوگ نماز میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جدا ہوئے اور صف میں کھڑے ہوگئے۔ پھر لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کردیا، ابوبکر (رض) نماز میں التفات نہیں کرتے تھے۔ جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو ابوبکر (رض) نے التفات کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ ابوبکر (رض) نے اپنے ہاتھ اٹھالیے اور اللہ کی حمد بیان کی، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا تھا۔ پھر ابوبکر پیچھے ہٹے اور صف میں کھڑے ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے ابوبکر ! کس چیز نے آپ کو منع کیا کہ آپ اپنی جگہ پر ثابت رہیں ؟ ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یہ بات ابن ابی قحافہ کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے نماز پڑھائے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ تالیاں بجاتے دیکھتا ہوں۔ جب کوئی مسئلہ نماز میں پیش آئے تو سبحان اللہ کہا کرو۔ کیونکہ سبحان اللہ کی وجہ سے اس کی جانب التفات کیا جائے گا اور تالیاں بجانا تو عورتوں کا کام ہے۔