(۵۴۳۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّہُ أَتَمَّ الصَّلاَۃَ بِمِنًی ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ السُّنَّۃَ سُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَسُنَّۃُ صَاحِبَیْہِ وَلَکِنَّہُ حَدَثَ الْعَامَ مِنَ النَّاسِ فَخِفْتُ أَنْ یَسْتَنُّوا۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ قِیلَ غَیْرُ ہَذَا وَالأَشْبَہُ أَنْ یَکُونَ رَآہُ رُخْصَۃً فَرَأَی الإِتْمَامَ جَائِزًا کَمَا رَأَتْہُ عَائِشَۃُ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ مَعَ اخْتِیَارِہِمُ الْقَصْرَ۔ [ضعیف۔ تاریخ ابن عساکر ۳۹/۲۵۵]
(٥٤٣٨) عبد الرحمن بن حمید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان (رض) منیٰ میں نماز مکمل پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے دو ساتھیوں کا طریقہ ہی سنت ہے۔ لیکن اب لوگوں کا آنا عام ہوا تو میں ڈر گیا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنالیں۔
شیخ فرماتے ہیں : اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائزسمجھتے تھے۔ جیسے حضرت عائشہ (رض) کا خیال تھا۔