(۵۴۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی لَیْلَی الْکِنْدِیِّ قَالَ : أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِی اثْنَیْ عَشَرَ رَاکِبًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَقَالُوا تَقَدَّم یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِنَّا لاَ نَؤُمُّکُمْ وَلاَ نَنْکِحُ نِسَائَ کُمْ إِنَّ اللَّہَ ہَدَانَا بِکُمْ قَالَ : فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّی بِہُمْ أَرْبَعًا قَالَ فَقَالَ سَلْمَانُ : مَا لَنَا وَالْمُرَبَّعَۃُ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِینَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَۃِ وَنَحْنُ إِلَی الرُّخْصَۃِ أَحْوَجُ ۔فَبَیَّنَ سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ بِمَشْہَدِ ہَؤُلاَئِ الصَّحَابَۃِ أَنَّ الْقَصْرَ رُخْصَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَرَوَیْنَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوثَ أَنَّہُمَا کَانَا یُتِمَّانِ الصَّلاَۃَ فِی السَّفَرِ وَیَصُومَانِ وَرَوَیْنَا جَوَازَ الأَمْرَیْنِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی قِلاَبَۃَ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ الطبرانی فی الکبیر ۶۰۵۳]
(٥٤٣٩) (الف) ابو لیلیٰ کندی فرماتے ہیں کہسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے ساتھ آئے جو سوار تھے، نماز کا وقت ہوگیا تو انھوں نے کہا : اے ابو عبداللہ ! آگے بڑھو تو ابو عبداللہ کہنے لگے : نہ تو ہم تمہاری امامت کروائیں گے اور نہ ہی تمہاری عورتوں کے نکاح پڑھائیں گے۔ کیونکہ تمہاری وجہ سے اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ چنانچہ قوم کے ایک آدمی نے ان کو چار رکعات پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ سلمان نے کہا : ہمیں چار سے کیا واسطہ ہمیں تو دو رکعات ہی کافی تھیں اور رخصت پر عمل زیادہ احتیاط والی بات ہے۔ ان صحابہ کی موجودگی میں سلمان فارسی نے بیان کیا کہ قصر رخصت ہے۔
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسودبن عبد یغوث دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔