(۵۴۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عَبْدَوْسُ بْنُ الْحُسَیْنِ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی السَّفِینَۃِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عُتْبَۃَ مَوْلَی أَنَسٍ وَہُوَ مَعَنَا فِی الْمَجْلِسِ : سَافَرْتُ مَعَ أَبِی الدَّرْدَائِ وَأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یُصَلِّی بِنَا أَمَامَنَا قَائِمًا فِی السَّفِینَۃِ وَنُصَلِّی خَلْفَہُ قِیَامًا وَلَوْ شِئْنَا لَخَرَجْنَا۔ [صحیح]
(٥٤٩٢) حمید طویل فرماتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) سے کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو عبداللہ بن ابی عتبہ انس (رض) کے غلام جو ہمارے ساتھ مجلس میں تھے فرمانے لگے : میں نے ابو درداء ، ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ کے ساتھ سفر کیا وہ ہمیں کشتی میں کھڑے ہو کر امامت کرواتے تھے اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اگر ہم چاہتے تو نکل جاتے۔