(۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ، وَہِیَ بِئْرٌ یُلْقَی فِیہَا النَّتَنُ وَالْجِیفَۃُ وَالْمَحِیضُ وَالْکِلاَبُ؟ فَقَالَ: ((الْمَائُ طَہُورٌ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ))
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ ، قَالَ وَقَالَ بَعْضُہُمُ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ۔
(ق) قَالَ الشَّیْخُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی: وَالْحَدِیثُ عَلَی طَہُورِہِ إِذَا لَمْ تُلْقَ فِی الْبِئْرِ نَجَاسَۃٌ ، فَإِذَا أُلْقِیَتْ فِیہَا نَجَاسَۃٌ فَمَعْنَی الْحَدِیثِ فِیمَا بَلَغَ قُلَّتَیْنِ وَلَمْ یَتَغَیَّرْ ، وَدَلِیلُہُ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
(٦) (الف) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بضاعہ کنویں کے پانی سے وضو کرلیں اور اس میں گندگی، گلاسڑا گوشت، حیض والے کپڑے اور مردار کتے پھینکے جاتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ “ [صحیح ]
(ب) شیخ احمد (رح) فرماتے ہیں : حدیث میں اس کنویں سے طہارت حاصل کرنے پر دلیل ہے جس میں نجاست نہ پھینکی جائے۔ اگر اس میں نجاست پھینکی جائے تو حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب پانی دو مٹکے ہو اور (اس کا ذائقہ، رنگ اور بو) تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اس کا ذکر اصل جگہ پر آجائے گا۔ ان شاء اللہ