(۶۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ یَعْنِی ابْنَ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِکٍ الأَشْعَرِیُّ وَاللَّہِ یَمِینًا أُخْرَی مَا کَذَبَنِی أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ أَیْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ یَعْنِی ابْنَ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ رَبِیعَۃُ الْجُرَشِیُّ فِی النَّاسِ فَذَکَرَ حَدِیثًا فِیہِ طُولٌ قَالَ فَإِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الأَشْعَرِیُّ قُلْتُ: یَمِینٌ حَلَفْتُ عَلَیْہَا قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِکٍ وَاللَّہِ یَمِینٌ أُخْرَی حَدَّثَنِی أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: لَیَکُونَنَّ فِی أُمَّتِی أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّونَ ۔قَالَ فِی حَدِیثِ ہِشَامٍ: الْخَمْرَ وَالْحَرِیرَ ۔
وَفِی حَدِیثِ دُحَیْمٍ: ((الْخَزَّ وَالْحَرِیرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَیَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَی جَنْبِ عَلَمٍ تَرُوحُ عَلَیْہِمْ سَارِحَۃٌ لَہُمْ فَیَأْتِیہِمْ طَالِبُ حَاجَۃٍ فَیَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَیْنَا غَدًا فَیُبَیِّتُہُمْ فَیَضَعُ عَلَیْہِمُ الْعَلَمَ ، وَیَمْسَخُ آخَرِینَ قِرَدَۃً وَخَنَازِیرَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))۔
قَالَ دُحَیْمٌ: وَیَمْسَخُ مِنْہُمْ آخَرِینَ ۔ثُمَّ ذَکَرَہُ۔أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ قَالَ: وَقَالَ ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ خَالِدٍ فَذَکَرَہُ وَذَکَرَ فِی رِوَایَتِہِ الْخَزَّ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: لاَ تَرْکَبُوا الْخَزَّ وَلاَ النِّمَارَ ۔وَکَأَنَّہُ -ﷺ- کَرِہَ زِیَّ الْعَجَمِ فِی مَرَاکِبِہِمْ وَاسْتَحَبَّ الْقَصْدَ فِی اللِّبَاسِ وَالْمَرْکَبِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۶۸]
(٦١٠٠) (الف) عطیہ بن قیس فرماتے ہیں کہ ربیعہ جرشی لوگوں میں کھڑے تھے ۔ انھوں نے لمبی حدیث ذکر کی۔۔۔ اچانک عبد الرحمن بن غنم اشعری بھی تھے۔ میں نے قسم کھا کر پوچھاتو انھوں نے قسم اٹھا کر کہا کہ ابو عامر یا ابو مالک نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ میری قوم سے ایسے لوگ ہوں گے جو اس کو حلال سمجھیں گے۔
(ب) ہشام کی حدیث میں ہے کہ شراب اور ریشم۔
(ج) دحیم کی حدیث میں ہے کہ ریشم، شراب، موسیقی۔ پہاڑ کی ایک طرف لوگ اتریں گے، ان کے جانور باہر جائیں گے، ان کے پاس ایک ضرورت مند آئے گا ، وہ کہہ دیں گے کہ کل آنا ۔ وہ رات گزاریں گے تو ان پر پہاڑ گرا دیا جائے گا اور ان کی صورتیں بندروں اور خنزیروں میں تبدیل ہوجائیں گی۔
(د) أبی سفیان (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ریشم اور چیتے کی کھال کی بنی ہوئی زین پر سواری نہ کرو۔