(۶۱۱۹) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنِی عَاصِمٌ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: نَہَانِی النَّبِیُّ -ﷺ- عَنِ الْقَسِّیَّۃِ ، وَالْمِیثَرَۃِ۔قَالَ أَبُو بُرْدَۃَ قُلْنَا لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا الْقَسِّیَّۃُ؟ قَالَ: ثِیَابٌ أَتَتْنَا مِنَ الشَّامِ أَوْ مِصْرَ مُضَلَّعَۃٌ فِیہَا حَرِیرٌ فِیہَا أَمْثَالُ الأُتْرُجِّ ، وَالْمِیثَرَۃُ شَیْء ٌ کَانَتْ تَصْنَعُہُ النِّسَائُ لِبُعُولَتِہِنَّ أَمْثَالُ الْقَطَائِفِ یَضَعُونَہَا عَلَی الرِّحَالِ۔ قَدْ أَشَارَ إِلَیْہِ الْبُخَارِیُّ فِی التَّرْجَمَۃِ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ: الْمَیَاثِرُ کَانَتْ مِنْ مَرَاکِبِ الأَعَاجِمِ مِنْ دِیبَاجٍ أَوْ حَرِیرٍ
وَقَالَ غَیْرُہُ: الْمِیثَرَۃُ جُلُودُ السِّبَاعِ۔ [صحیح۔ ابو داؤد ۴۲۲۵]
(٦١١٩) ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے پوچھا : قسی کپڑا کیا ہے ؟ فرمایا : وہ کپڑا جو شام ومصر سے ہمارے پاس آتا تھا ، اس میں ریشم بھی موجود تھا اور میثرہ سے مراد وہ کپڑا ہی جو عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے تیار کرتی ہیں۔ جیسے چادریں ہوتی ہیں جنہیں زین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔