(۶۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَہِدْتُ صَلاَۃَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَکُلُّہُمْ یُصَلِّیہَا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ یَخْطُبُ بَعْدُ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہِ حِینَ یُجْلِسُ الرِّجَالَ بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ یَشُقُّہُمْ حَتَّی أَتَی النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلاَلٌ فَقَالَ {یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ} [الممتحنۃ: ۱۲] الآیَۃَ ، ثُمَّ قَالَ حِینَ فَرَغَ مِنْہَا: أَنْتُنَّ عَلَی ذَلِکَ ۔فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَمْ یُجِبْہُ غَیْرُہَا مِنْہُنَّ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللَّہِ۔لاَ نَدْرِی حِینَئِذٍ مَنْ ہِیَ قَالَ: تَصَدَّقْنَ ۔فَبَسَطَ بِلاَلٌ ثَوْبَہُ ، ثُمَّ قَالَ: ہَلُمَّ فِدًا لَکُنَّ أَبِی وَأُمِّی فَجَعَلْنَ یُلْقِینَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِیمَ فِی ثَوْبِ بِلاَلٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۹۳۶]
(٦٢٠٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نمازِ فطر کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) ‘ عمر (رض) عثمان (رض) کے ساتھ حاضر ہوا، وہ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے۔ اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ رہا ہوں منبر سے اترتے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ان میں سے راستہ بناتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بلال بھی موجود تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیات تلاوت فرمائی : { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ } [الممتحنۃ : ١٢] اے نبی ! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کرنے کے لیے۔ جب آپ ان سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تم ایسے ہی رہنا۔ صرف ایک عورت نے جواب دیا : ہاں۔ اس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نہیں جانتے کہ وہ کون تھی ؟ فرمایا : تم صدقہ کرو تو بلال (رض) نے کپڑا پھیلایا، پھر فرمایا : اب تم اپنے صدقے دو میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تو وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال (رض) کے کپڑے میں پھینک رہی تھیں۔