(۶۲۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ زُبَیْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أَضْحًی إِلَی الْبَقِیعِ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((إِنَّ أَوَّلَ نُسُکِنَا فِی یَوْمِنَا ہَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِکَ فَإِنَّمَا ہُوَ لَحْمٌ عَجَّلَہُ لأَہْلِہِ لَیْسَ مِنَ النُّسُکِ فِی شَیْئٍ))۔فَقَامَ خَالِی فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا ذَبَحْتُ وَعِنْدِی جَذَعَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُسِنَّۃٍ قَالَ: ((اذْبَحْہَا ثُمَّ لاَ تُوفِی جَذَعَۃٌ بَعْدَکَ))۔قَالَ زُبَیْدٌ: فَسَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّہُ قَالَ: عَنَاقَ جَذَعَۃٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ زُبَیْدٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٦٢٦٣) براہ بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الاضحی کے دن بقیع کی جانب آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : آج کے دن ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتدا کریں ۔ پھر ہم قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پالیا۔ اور جس آنے آنے سے پہلے ذبح کردیا تو وہ گوشت ہے۔ اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی کی ہے قربانی نہیں۔ میرے ماموں کھڑے ہو کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میں نے قربانی ذبح کردی ہے اور میرے پاس ” جذعۃ “ ہے جو مسنہ سے بہتر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ذبح کرلے۔ تیرے بعد کسی سے جذعۃ کفایت نہ کرے گا۔
زبید فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ” بکری کا جذعۃ “