(۶۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی صَفْوَانَ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: کَانَتْ ظُلْمَۃٌ عَلَی عَہْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: فَأَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ ہَلْ کَانَ یُصِیبُکُمْ مِثْلُ ہَذَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّہِ إِنْ کَانَتِ الرِّیحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ إِلَی الْمَسْجِدِ مَخَافَۃَ الْقِیَامَۃِ۔
[ضعیف۔ ابو داؤد ۱۱۹۶]
(٦٣٧٨) عبید اللہ بن نضر اپنے والدسینقل فرماتے ہیں کہ انس (رض) کے عہد میں سخت اندھیرا ہوگیا تو میں نے انس (رض) کے پاس آ کر کہا : اے ابو حضرہ (رض) ! کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں آپ کو اس طرح کا اندھیرا پہنچا ؟ فرمانے لگے : اللہ کی پناہ ! اگر سخت ہوا چلتی تو قیامت کے ڈر کی وجہ سے ہم مسجد کی طرف جلدی کیا کرتے تھے۔