(۶۳۹۰) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً فِی شَہْرِ رَمَضَانَ سَنَۃَ تِسْعٍ وَتِسْعِینَ وَثَلاَثِ مِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الشَّاشِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنِی سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ خُثَیْمٍ یَعْنِی ابْنَ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَہْلاً عَنِ اللَّہِ مَہْلاً فَإِنَّہُ لَوْلاَ شَبَابٌ خُشَّعٌ وَبَہَائِمُ رُتَّعٌ وَشُیُوخٌ رُکَّعٌ وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ لَصُبَّ عَلَیْکُمُ الْعَذَابُ صَبًّا))۔
إِبْرَاہِیمُ بْنُ خُثَیْمٍ غَیْرُ قَوِیٍّ وَلَہُ شَاہِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو یعلٰی]
(٦٣٩٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے ، وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہر جاؤ جلدی نہ کرو۔ اللہ سے یہ یقینی بات ہے کہ اگر خشوع و خضوع کرنے والے نوجوان نہ ہوتے اور چوپائے بلبلانے والے نہ ہوتے اور بزرگ (بوڑھے) جھکنے والے نہ ہوتے اور بچے چیخنے چلانے والے نہ ہوتے تو تم پر عذاب نازل کردیا جاتا۔ اس میں ابراہیم بن خثیم قوی نہیں ۔