(۶۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی الْجَابِرُ عَنْ أَبِی مَاجِدَۃَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِیَّنَا -ﷺ- عَنِ السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ قَالَ: ((السَّیْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ کَانَ خَیْرًا یُعَجَّلْ إِلَیْہِ، وَإِنْ کَانَ سِوَی ذَلِکَ فَبُعْدًا لأَہْلِ النَّارِ الْجَنَازَۃِ مَتْبُوعَۃٌ وَلاَ تَتْبَعُ لَیْسَ مَعَہَا مَنْ تُقَدَّمُہَا))۔
ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفٌ۔ یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَابِرُ ضَعِیفٌ وَأَبُو مَاجِدَۃَ وَقِیلَ أَبُو مَاجِدٍ مَجْہُولٌ وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّہُ لَمَّا احْتُضِرَ حَضَرَہُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُمَا : إِذَا حَمَلْتُمْ فَأَسْرَعُوا بِی أَسْرِعُوا بِی۔ [ضعیف۔ أبو داؤد]
(٦٨٤٩) عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ چلناعام چلنے کے سوا ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو اس کی طرف جلدی لے جایا جائے گا اور اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کیلئے دوری ہو۔ جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے وہ پیچھے نہیں چلتا اور کوئی اس کے آگے چلنے والا نہیں ہوتا۔ ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اور ابن عباس (رض) آئے اور کہنے لگے کہ جب تم جنازہ اٹھاتے ہو تو وہ کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو جلدی لے چلو۔