(۷۱۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَائَ الأَنْصَارِ یَبْکِینَ فَقَالَ : لَکُنَّ حَمْزَۃَ لاَ بَوَاکِیَ لَہُ ۔ فَبَلَغَ ذَلِکَ نِسَائَ الأَنْصَارِ فَبَکَیْنَ لِحَمْزَۃَ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُنَّ یَبْکِینَ فَقَالَ : ((یَا وَیْحَہُنَّ مَا زِلْنَ یَبْکِینَ مُنْذُ الْیَوْمِ فَلْیَسْکُتْنَ وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ))۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْ أُسَامَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابن ماجہ]
(٧١٥٤) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے پلٹے تو انصاری عورتوں کو روتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مگر تم حمزہ پر روؤ جس پر رونے والے نہیں ہیں تو یہ بات انصار کی عورتوں تک پہنچی تو وہ حمزہ (رض) کی وجہ سے رونے لگیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے ، پھر بیدار ہوئے تو وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر افسوس ابھی تک رو رہی ہو، چاہیے کہ وہ خاموش ہوجائیں اور آج کے بعد کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔