(۷۱۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ فَسَمِعَ نِسَائَ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ یَبْکِینَ عَلَی ہَلْکَاہُنَّ فَقَالَ : ((لَکِنَّ حَمْزَۃَ لاَ بَوَاکِیَ لَہُ))۔ فَجِئْنَ نِسَائُ الأَنْصَارِ فَبَکَیْنَ عَلَی حَمْزَۃَ عِنْدَہُ وَرَقَدَ فَاسْتَیْقَظَ وَہُنَّ یَبْکِینَ فَقَالَ : ((یَا وَیْحَہُنَّ إِنَّہُنَّ لَہَاہُنَا حَتَّی الآنَ۔ مُرُوہُنَّ فَلْیَرْجِعْنَ وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ))۔
وَقَوْلُہُ : ((وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ))۔ إِنْ أَرَادَ بِہِ الْعُمُومَ کَانَ کَقَوْلِہِ فِی حَدِیثِ ابْنِ عَتِیکٍ : ((فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْکِیَنَّ بَاکِیَۃٌ))۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمرادُ بِہِ عَلَی ہَالِکٍ مِنْ شُہَدَائِ أُحُدٍ فَکَأَنَّہُ قَالَ : حَسْبُکُنَّ مَا بَکَیْتُنَّ عَلَیْہِمْ۔
وَقَدْ وَرَدَتِ الرُّخْصَۃُ فِی الْبُکَائِ بَعْدَ الْمَوْتِ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَحُزْنِ الْقَلْبِ فَیَکُونُ حَدِیثُ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ مَحْمُولاً عَلَی الاِخْتِیَارِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ تقدم قبلہ]
(٧١٥٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ احد سے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبد الاشھل کی عورتوں کو اپنے شہداء پر روتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حمزہ (رض) پر تو کوئی رونے والا نہیں، پھر انصاری عورتیں آئیں اور حمزہ (رض) پر رونا شروع کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے، پھر بیدار ہوئے اور وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان پر افسوس ہے یہ ابھی تک رو رہی ہیں، ان سے کہو کہ چلی جائیں اور آج کے بعد کسی شہید ہونے والے پر نہ روئیں۔
( (وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ ) ) اگر اس سے عموم مراد ہے جیسے عبداللہ بن عتیک کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شھدائِ احد ہوں جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تم نے رو لیا وہ کافی ہے اور اس کے بعد فوت ہونے والے پر رونے کی رخصت دے دی گئی بغیر آنسوؤں کے اور غم گین دل سے۔