(۷۳۰۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَجُلاً فِی مَکَانِ أَیُّوبَ عَلَیْہِ جُبَّۃُ صُوفٍ وَفِی رِوَایَۃِ الْحَارِثِ قَالَ : رَأَیْتُ فِی مَجْلِسِ أَیُّوبَ أَعْرَابِیًّا عَلَیْہِ جُبَّۃُ صُوفٍ فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمَ یَتَحَدَّثُونَ قَالَ حَدَّثَنِی مَوْلاَیَ قُرَّۃُ بْنُ دُعْمُوصٍ قَالَ : أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَإِذَا النَّبِیُّ -ﷺ- قَاعِدٌ وَأَصْحَابُہُ حَوْلَہُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْہُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَدْنُوَ مِنْہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَغْفِرْ لِلْغُلاَمِ النُّمَیْرِیِّ۔ فَقَالَ : ((غَفَرَ اللَّہُ لَکَ))۔ قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الضَّحَّاکَ سَاعِیًا - قَالَ - فَجَائَ بِإِبِلٍ جلَّۃٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَتَیْتَ ہِلاَلَ بْنَ عَامِرٍ وَنُمَیْرَ بْنَ عَامِرٍ وَعَامِرَ بْنَ رَبِیعۃٍ فَأَخَذْتَ جِلَّۃَ أَمْوَالِہِمْ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَمِعْتُکَ تَذْکُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِیَکَ بِإِبِلٍ تَرْکَبُہَا وَتَحْمِلُ عَلَیْہَا أَصْحَابَکَ قَالَ : ((وَاللَّہِ لَلَّذِی تَرَکْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی جِئْتَ بِہِ اذْہَبْ فَرُدَّہَا عَلَیْہِمْ وَخُذْ صَدَقَاتِہِمْ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحارث]
(٧٣٠٨) قرہ بن دعموص (رض) فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور صحابہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارد گرد تھے۔ میں نے چاہا کہ میں آپ سے قریب ہو کر بیٹھوں مگر میں قریب نہ جاسکا ۔ پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اپنے نمیری غلام کے لیے استغفار کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تجھے معاف کرے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضحاک کو عامل بنا کر بھیجا تو وہ ایک بڑا اونٹ لے آئے تو اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ہلال بن عامر اور نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس آیا ہے اور ان کے عمدہ مال کو لیا ہے تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے سنا آپ غزوے کا تذکرہ کر رہے تھے تو میں نے چاہا کہ ایسا اونٹ لاؤں جس پر آپ سوار ہوں اور آپ کے صحابہ بھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! جو تو چھوڑ کہ آیا ہے وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب تھا جسے تو لے کر آیا ہے جا اور اسے واپس لوٹا اور ان کے عام مال سے زکوۃ وصول کر۔