(۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو طَلْحَۃَ وَأُبِیُّ بْنُ کَعْبٍ ، فَقَرَّبَ إِلَیْہِمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْہُ النَّارُ ، فَأَکَلُوا مِنْہُ ، فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو طَلْحَۃَ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : مَا ہَذَا یَا أَنَسُ أَعِرَاقِیَّۃٌ؟ فَقَالَ أَنَسٌ : لَیْتَنِی لَمْ أَفْعَلْ۔
وَقَامَ أَبُو طَلْحَۃَ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَصَلَّیَا وَلَمْ یَتَوَضَّیَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۶]
(٧٣٤) عبد الرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک (رض) عراق سے آئے تو ان کے پاس سیدنا ابوطلحہ اور أبی بن کعب (رض) تشریف لائے۔ انھوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا جو آگپر پکا تھا۔ انھوں نے اس سے کھایا، پھر سیدنا انس (رض) کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو سیدنا ابوطلحہ (رض) اور سیدنا ابی بن کعب (رض) نے کہا : اے انس ! یہ کیا عراقیوں جیسافعل ہے ؟ سیدنا انس (رض) نی فرمایا : کاش ! میں یہ نہ کرتا ۔ سیدنا ابوطلحہ اور أبی بن کعب کھڑے ہوئے، نماز ادا کی لیکن وضو نہیں کیا۔