hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7496

.

سنن البيهقي

7496
Sunan Al Bayhaqi
(۷۴۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِیمَا سَقَتِ السَّمَائُ أَوْ سُقِیَ بِالسَّیْلِ وَالْغَیْلِ وَالْبَعْلِ الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِیَ بِالنَّوَاضِحِ فَنِصْفَ الْعُشْرِ۔ قَالَ حَاتِمٌ : والْغَیْلُ مَا سُقِیَ فَتْحًا وَالْبَعْلُ : ہُوَ الْعِذْیُّ الَّذِی یَسْقِیہِ مَائُ الْمَطَرِ قَالَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ وَسَأَلْتُ أَبَا إِیَاسٍ یَعْنِی الأَسَدِیَّ فَقَالَ: الْبَعْلُ وَالْعَثَرِیُّ وَالْعِذْیُّ ہُوَ الَّذِی یُسْقَی بِمَائِ السَّمَائِ قَالَ یَحْیَی : الْعَثَرِیُّ مَا یُزْرَعُ لِلسِّحَابِ لِلْمَطَرِ خَاصَّۃً لَیْسَ یُسْقَی إِلاَّ بِمَائٍ یُصِیبُہُ مِنَ الْمَطَرِ فَذَلِکَ الْعَثَرِیُّ، وَالْبَعْلُ مَا کَانَ مِنَ الْکُرُومِ قَدْ ذَہَبَتْ عَرُوقُہُ فِی الأَرْضِ إِلَی الْمَائِ فَلاَ یَحْتَاجُ إِلَی السَّقْی الْخَمْسَ السِّنِینَ وَالسِّتَّ یَحْتَمِلُ تَرَکَ السَّقْیِ فَہَذَا الْبَعْلُ ، وَالسَّیْلُ مَائُ الْوَادِی إِذَا سَالَ ، وَأَمَّا الْغَیْلُ : فَہُوَ سَیْلٌ دُونَ السَّیْلِ الْکَثِیرِ إِذَا سَالَ الْقَلِیلُ بِالْمَائِ الصَّافِی فَہُوَ الْغَیْلُ وَالْعِذْیُّ : مَائُ الْمَطَرِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]
(٧٤٩٤) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جسے آسمان پلاتا ہے یا سیلاب یا نہریں یا بارانی زمین کی پیداوار ہے اس کا دسواں حصہ عشر مقرر فرمایا اور جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ۔
حاتم فرماتے ہیں کہ غیل وہ زمین ہے جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اور بعل وہ ہے جسے بارش سیراب کرے۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں : میں نے ابو ایاس سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ بعل عشری ہے اور عذی وہ ہیں جنہیں بارش کا پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں : عشری وہ ہے جسے صرف بارش سے کاشت کیا جائے، یعنی بارش کے بغیر پانی نہ پلایا جائے اور بعل جو انگور کی بیلیں ہیں ان کی جڑیں زمین میں گہری پانی تک چلی جائیں اور پانچ سال تک بھی اسے پانی پلانے کی ضرورت پیش نہ آئے جس سے پانی ترک کرنے کا احتمال ہو اور سیل وادی کا پانی جب بہہ نکلے لیکن جو سیل (سیلاب) ہے یہ زیادہ سیلاب سے کم ہوتا ہے، جب تھوڑا صاف بہے تو وہ سیل ہے اور بارش کا پانی عذی ہے۔