(۷۵۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ نُبَیْطٍ عَنْ أُمِّہَا قَالَتْ: کُنْتُ فِی حِجْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَا وَأُخْتَایَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُحَلِّینَا الذَّہَبَ وَاللُّؤْلُؤَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عُبَیْدٍ : فَکَانَ یُحَلِّینَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : رِعَاثًا مِنْ ذَہَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَقَالَ صَفْوَانُ : یُحَلِّینَا التِّبرَ وَاللُّؤْلُؤَ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو وَاحَدُ الرِّعَاثِ رَعَثَۃٌ ورَعْثَۃٌ وَہُوَ الْقُرْطُ۔
فَہَذِہِ الأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِی مَعْنَاہَا تَدُلُّ عَلَی إِبَاحَۃِ التَّحَلِّی بِالذَّہَبِ لِلنِّسَائِ وَاسْتَدْلَلْنَا بِحُصُولِ الإِجْمَاعِ عَلَی إِبَاحَتِہِ لَہُنَّ عَلَی نَسْخِ الأَخْبَارِ الدَّالَۃِ عَلَی تَحْرِیمِہِ فِیہِنَّ خَاصَّۃً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
(٧٥٦١) زینب بنت نبی ط اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پرورش میں تھی اور میری بہن بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں زیور پہنایا جس میں ہیرے کا جڑاؤ تھا۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں : سونے اور ہیرے کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں : ہمیں زیور پہناتے تبر اور لؤ لؤ سے ۔ ابو عمرو کہتے ہیں : رعاث کی واحد رعثہ ہے۔ رعثہ قرط ہے (بالی) سو یہ اخبار اس معانی میں وارد ہوئی ہیں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اس لیے ہم نے عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع کیا جو اس کی تحریم کی احادیث کے منسوخ ہونے پر دلیل ہے۔