hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7662

.

سنن البيهقي

7662
Sunan Al Bayhaqi
(۷۶۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَہُ سَاعِیًا فَقَالَ أَبُوہُ : لاَ تَخْرُجْ حَتَّی تُحْدِثَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَہْدًا فَلَمَّا أَرَادَ الْخُرُوجَ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا قَیْسُ لاَ تَأْتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِکَ بَعِیرٌ لَہُ رُغَاء ٌ أَوْ بَقَرَۃٌ لَہَا خُوَارٌ أَوْ شَاۃٌ لَہَا یُعَارٌ ، وَلاَ تَکُنْ کَأَبِی رِغَالٍ))۔ فَقَالَ سَعْدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَا أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ : ((مُصَدِّقٌ بَعَثَہُ صَالِحٌ فَوَجَدَ رَجُلاً بِالطَّائِفِ فِی غُنَیْمَۃٍ قَرِیبَۃٍ مِنْ الْمِائَۃِ شِصَاصٍ إِلاَّ شَاۃً وَاحِدَۃً وَابْنٍ صَغِیرٍ لاَ أُمَّ لَہُ فَلَبَنُ تِلْکَ الشَّاۃِ عَیْشُہُ فَقَالَ صَاحِبُ الْغَنَمِ : مَنْ أَنْتَ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَرَحَّبَ وَقَالَ: ہَذِہِ غَنَمِی فَخُذْ أَیَّمَا أَحْبَبْتَ فَنَظَرَ إِلَی الشَّاۃِ اللَّبُونِ فَقَالَ: ہَذِہِ فَقَالَ الرَّجُلُ : ہَذَا الْغُلاَمُ کَمَا تَرَی لَیْسَ لَہُ طَعَامٌ وَلاَ شَرَابٌ غَیْرَہَا فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ تُحِبُّ اللَّبَنَ فَأَنَا أُحِبُّہُ فَقَالَ : خُذْ شَاتَیْنِ مَکَانَہَا فَلَمْ یَزَلْ یَزِیدُہُ وَیَبْذُلُ حَتَّی بَذَلَ لَہُ خَمْسَ شِیَاہٍ شِصَاصٍ مَکَانَہَا فَأَبَی عَلَیْہِ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَمَدَ إِلَی قَوْسِہِ فَرَمَاہُ فَقَتَلَہُ وَقَالَ: مَا یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَنْ یَأْتِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِہَذَا الْخَبَرِ أَحَدٌ قَبْلِی فَأَتَی صَاحِبُ الْغَنَمِ صَالِحًا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ صَالِحٌ : اللَّہُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ اللَّہُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ))۔ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اعْفِ قَیْسًا مِنَ السِّعَایَۃِ۔[ضعیف۔ أخرجہ ابن خریجہ]
(٧٦٥٩) قیس بن سعد بن عبادہ انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں عامل بنا کر بھیجا تو اس کے والد نے اسے کہا تو اتنی دیر نہ جانا جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عہد لے لے، جب آپ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قیس ! قیامت کے دن اس حالت میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ ہو اور وہ بلبلا رہا ہو یا گائے کے ساتھ اس کی آواز بھی ہو اور نہ بکری کے ساتھ کہ وہ منمنا رہی ہو اور تو ابو رغال کی طرح نہ ہونا تو سعد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابو رغال کا کیا ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مصدق تھا جسے صالح نے بھیجا تھا تو اس نے ایک آدمی کو اپنے ریوڑ میں دیکھا، جو ننانوے تھیں اور ایک چھوٹا بچہ جس کی ماں نہیں تھی۔ ان بکریوں کا دودھ ہی اس کی زندگی تھی تو بکریوں والے نے کہا : تو کون ہے ؟ تو اس نے کہا : میں اللہ کے رسول کا ایلچی ہوں تو وہ ڈر گیا اور اس نے کہا : یہ میری بکریاں ہیں ، جو تجھے پسند ہے وہ وصول کر تو اس نے دو دھ والی بکریوں کو دیکھا اور کہا : کہ یہ ہے تو اس آدمی نے کہا : یہ بچہ بھی ہے جسے تو دیکھتا ہے کہ اس کے لیے اس کے سوا کھانے پینے کی چیز نہیں ہے تو اس نے کہا : اگر تو دودھ پسند کرتا ہے تو میں بھی دودھ پسند کرتا ہوں ۔ اس نے کہا : تو اس کے عوض دو بکریاں وصول کرلے تو وہ اسی طرح اضافہ کرتا رہا حتیٰ کہ اس نے پانچ بکریاں مقرر کردیں۔ مگر اس نے پھر بھی انکار کیا، جب اس نے یہ دیکھا تو اپنے تیر کو لیا اور اسے مار کر قتل کردیا اور کہنے لگا : کسی کو لائق نہیں کہ اس کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ایلچی مجھ سے پہلیآیا یہ خبر لے کر تو بکریوں والا صالح کے پاس آیا اور خبر دی تو صالح نے کہا : اے اللہ ابو رغال پر لعنت کر ، اے اللہ ابو رغال پر لعنت کر تو سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیس کو عاملیت سے معاف رکھیے ۔