(۷۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقُوا قَبْلَ الصَّلاَۃِ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی} وَقُولُوا کَمَا قَالَ أَبُوکُمْ {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ} وَقُولُوا کَمَا قَالَ نُوحٌ {وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی أَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِینَ} وَقُولُوا کَمَا قَالَ إِبْرَاہِیمُ {وَالَّذِی أَطْمَعُ أَنْ یَغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ} وَقُولُوا کَمَا قَالَ مُوسَی {رَبِّ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَغَفَرَ لَہُ إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ} وَقُولُوا کَمَا قَالَ ذُو الْنُّونِ {لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ} وَأُرَاہُ کَتَبَ : مَنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ مَا یَتَصَدَّقُ بِہِ فَلْیَصُمْ یُرِیدُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ بَعْدَ الْعِیدِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق]
(٧٧٤٠) جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ نمازِ عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو۔ { قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی } اور تم اسی طرح کہو جیسے تمہارے والد نے کہا { رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ } اور تم کہو جیسے نوح (علیہ السلام) نے کہا { وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی أَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِینَ } اور ایسے کہو جیسے ابراہیم نے کہا تھا { وَالَّذِی أَطْمَعُ أَنْ یَغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ } اور ایسے کہو جیسے موسیٰ نے کہا تھا { رَبِّ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَغَفَرَ لَہُ إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ } اور ایسے کہو جیسے یونس نے کہا { لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ } میرا خیال ہے کہ انھوں نے لکھا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ فطر دینے کے لیے کچھ نہیں تو وہ عید کے بعد روزہ رکھے۔ واللہ اعلم۔