hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7744

.

سنن البيهقي

7744
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِیرٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ جَرِیرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جُلُوسًا فِی صَدْرِ النَّہَارِ فَجَائَ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ عَلَیْہِمُ الْعَبَائُ أَوْ قَالَ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ ، فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَتَغَیَّرُ لِمَا یَرَی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ فَخَطَبَ ، ثُمَّ قَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، ثُمَّ قَالَ {یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} الآیَۃَ۔ تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ ثَوْبِہِ مِنْ صَاعِ بُرِّہِ مِنْ صَاعِ تَمْرِہِ ۔ حَتَّی قَالَ : وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ۔ قَالَ : فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ قَدْ کَادَتْ کَفُّہُ أَنْ تَعْجِزَ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ عَنْہَا فَدَفَعَہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِی الصَّدَقَاتِ ، فَرَأَیْتُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ وَجَعَلَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَتَہَلَّلُ کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ وَقَالَ : ((مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً کَانَ لَہُ أَجْرُہَا ، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئٌ ، وَمَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ الطَّیَالِسِیِّ وَحَدِیثُ النَّضْرِ بِمَعْنَاہُ وَلَمْ یَذْکُرِ النَّضْرُ عَلَیْہِمُ الْعَبَائُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ : مُجْتَابِی النِّمَارِ أَوِ الْعَبَائِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٧٧٤١) جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس شروع دن میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک قوم آئی جو ننگے جسم اور ننگے پاؤں تھے اور وہ چادریں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ۔ اکثر ان کے مضر میں سے تھے یا سب ہی مضر تھے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھا کہ وہ ان کے فاقے کو دیکھنے کی وجہ سی تبدیل ہو رہا تھا آپ داخل ہوئے پھر نکلے۔ پھر بلال (رض) کو اقامت کہنے کا حکم دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا { یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ } إِلَی آخِرِ یہ آیت آخر تک تلاوت کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی { یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ } کچھ آیت پڑھی “ کسی نے دینار صدقہ کیا کسی نے درہم صدقہ کیا، کسی نے کپڑے ، کسی نے گندم کا صاع اور کسی نے کھجور کا صاع، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ کوئی آدمی کھجور دے۔ راوی کہتے ہیں : انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی کے ساتھ آیاقریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آجاتا بلکہ عاجز آچکا تھا، وہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی ، پھر لوگوں نے صدقات میں اس کی اتباع کی میں نے دیکھا کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر لگ چکے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک سونے کی طرح چمک اٹھا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اسلام میں اچھی روایت قائم کی اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور ان کا بھی جو اس کے بعدویسا عمل کریں گے اس کے بغیر کے ان کے عمل میں کچھ کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں بری روایت قائم کی اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا بھی بغیر ان کے گناہ میں کمی کیے۔
نضر کی حدیث بھی اسی معنیٰ میں ہے مگر نضر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان پر عباء تھی۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں محمد بن مثنیٰ کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ محتابی نمار تھے یا پھر محتابی عباء اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔