(۷۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَاصِمٍ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَیْضَۃِ مِنْ ذَہَبٍ أَصَابَہَا فِی بَعْضِ الْمَغَازِی أَوْ قَالَ الْمَعَادِنِ فَجَائَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ رُکْنِہِ الأَیْمَنِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خُذْہَا مِنِّی صَدَقَۃً۔ وَاللَّہِ مَا لِی مَالٌ غَیْرَہَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ جَائَ بِہَا عَنْ رُکْنِہِ الأَیْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ جَائَ بِہَا مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ : ہَاتِہَا ۔ فَحَذَفَہُ حَذْفَۃً لَوْ أَصَابَتْہُ لأَوْجَعَہُ أَوْ عَقَرَہُ ، ثُمَّ قَالَ : ((یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ فَیَأْتِی بِمَالِہِ فَیَتَصَدَّقُ بِہِ ، ثُمَّ یَقْعُدُ بَعْدَ ذَلِکَ یَتَکَفَّفُ النَّاسَ ۔ إِنَّمَا الصَّدَقَۃَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی۔ خُذِ الَّذِی لَکَ لاَ حَاجَۃَ لَنَا بِہِ))۔ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَہُ وَذَہَبَ۔
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ أَصَبْتُ ہَذِہِ مِنْ مَعْدِنٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٧٧٧٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا کسی غزوہ یا کان سے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دائیں جانب سے آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ مجھ سے وصول کرلیں یا مجھ سے اس کی زکوۃ وصول کرلیں ۔ اللہ کی قسم ! اس کے علاوہ میرے پاس کوئی مال نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ موڑلیا ، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب سے آیا اور ویسے ہی کہا، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے آیا اور ایسے ہی کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاؤ اور اسے پھینک دیا ، اگر اسے لگ جاتا تو وہ اسے زخمی کردیتا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک مال لاتا ہے صدقہ کرنے کے لیے اور بعد میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاکر بیٹھ جاتا ہے۔ بیشک صدقہ وہ ہوتا ہے جو مال داری کے بعد ہو، اس کو پکڑ یہ تیرا ہے، ہمیں کوئی اس کی حاجت نہیں تو اس نے اپنا مال پکڑا اور چلا گیا۔
(حمادبن سلمہ محمد بن اسحاق سے اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ یہ میں نے کان سے لیا ہے۔