(۷۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ۔قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ مُنْذُ حِینٍ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ مَیْمُونَۃَ أَخْبَرَتْہُ: أَنَّ دَاجِنَۃً کَانَتْ لِبَعْضِ نِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَمَاتَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَلاَ أَخَذْتُمْ إِہَابَہَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ؟))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ۔ (ق)قَالَ فَخَصَّ الإِہَابَ بِالاِسْتِمْتَاعِ بِہِ۔
وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الآخَرِ احْتَجَّ بِمَا: [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۳]
(٧٩) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس پالتو جانور تھا جو مرگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا، پھر تم اس سے فائدہ حاصل کرتیں !
(ب) عثمان نوفلی کہتے ہیں کہ انھوں نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔