(۷۸۶۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ قَالَ : کَتَبَ مَعِی أَہْلُ الْکُوفَۃِ بِمَسَائِلَ أَسْأَلُ عَنْہَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَأَتَاہُ عَبْدٌ فَقَالَ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّی أَرْعَی غَنَمًا لأَہْلِی فَیَمُرُّ بِیَ الظَّمَآنُ أَسْقِیہُ؟ قَالَ : لاَ ، ثُمَّ لاَ إِلاَّ بِأَمْرِ أَہْلِکَ۔ قَالَ : فَإِنِّی أَتَخَوَّفُ عَلَیْہِ الْمَوْتَ قَالَ : فَاسْقِہِ ، ثُمَّ أَخْبِرْ أَہْلَکَ بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
(٧٨٦١) عبداللہ بن ابی وھیل (رض) بیان کرتے ہیں کہ اھل کوفہ نے کچھ مسائل لکھ کردیے۔ میں نے اس کے متعلق ابن عباس (رض) سے پوچھا تو میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک غلام آیا اور اس نے کہا : اے ابن عباس (رض) ! میں بکریوں کا چروا رہا ہوں اپنے اھل کی اور میرے پاس سے کوئی پیاسہ گزرے کیا میں اس کو پلاؤں ؟ تو انھوں نے کہا : نہیں پھر میں مگر اس کی اجازت سے۔ اس نے کہا : میں اس کی موت سے ڈرتا ہوں تو انھوں نے کہا : پھر اسے پلادے، لیکن اس بات سے اپنے اہل کو آگاہ کردے۔