(۸۱۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِاللَّہِ لأَہَلاَّ الْہِلاَلَ أَمْسِ عَشِیَّۃً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ أَنْ یُفْطِرُوا وَأَنْ یَغْدُوا إِلَی مُصَلاَّہُمْ۔ [صحیح۔ معنیٰ قریباً]
(٨١٩٩) ربعی بن حراش ایک صحابی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن میں لوگوں نے اختلاف کیا تو دودیہاتی آئے، انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کا حکم دے دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ آئیں۔