hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8347

.

سنن البيهقي

8347
Sunan Al Bayhaqi
(۸۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالَ الْقَاضِی حَدَّثَنِا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْن عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- آخَی بَیْنَ سَلْمَانَ وَبَیْنَ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ فَجَائَ ہُ سَلْمَانُ یَزُورُہُ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَائِ مُتَبَذِّلَۃٌ فَقَالَ : مَا شَأْنُکِ یَا أُمَّ الدَّرْدَائِ ؟ قَالَتْ : إِنَّ أَخَاکَ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُومُ اللَّیْلَ وَیَصُومُ النَّہَارَ وَلَیْسَ لَہُ فِی شَیْئٍ مِنَ الدُّنْیَا حَاجَۃٌ۔ فَجَائَ أَبُو الدَّرْدَائِ فَرَحَّبَ بِہِ وَقَرَّبَ إِلَیْہِ طَعَامًا فَقَالَ لَہُ سَلْمَانُ : اطْعَمْ قَالَ : إِنِّی صَائِمٌ۔ قَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَتُفْطِرَنَّہْ قَالَ : مَا أَنَا بِآکِلٍ حَتَّی تَأْکُلَ فَأَکَلَ مَعَہُ ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَہُ فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَنْ یَقُومَ فَمَنَعَہُ سَلْمَانُ وَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا الدَّرْدَائِ إِنْ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَلِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَلأَہْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔ صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَأْتِ أَہْلَکَ ، وَأَعْطِ کُلَّ ذِی حَقٍّ حَقَّہُ۔ فَلَمَّا کَانَ فِی وَجْہِ الصُّبْحِ قَالَ : قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ قَالَ - فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَکَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَی الصَّلاَۃِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَائِ لِیُخُبِرَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالَّذِی أَمَرَہُ سَلْمَانُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((یَا أَبَا الدَّرْدَائِ إِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ لَکَ سَلْمَانُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٨٣٤٤) عون بن ابی محیط اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے سلمان اور ابودرداء میں بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک دن سلمان نکلے تو اُم درداء کو پراگندہ حالت میں دیکھا اور کہا : اُم درداء ! تجھے کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ابودرداء صبح روزہ رکھتا ہے۔ رات کو قیام کرتا ہے اور اسے دنیا داری کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ابو درداء آئے تو انھوں نے کہا : میں صائم ہوں ۔ وہ کہنے لگے : میں تجھ پر قسم ڈالتا ہوں کہ آپ ضرور افطار کریں گے تو انھوں نے اس کے ساتھ کھانا کھایا : پھر ان کے پاس رات گذاری۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ابو درداء نے قیام کرنا چاہا مگر سلمان نے منع کردیا اور ان سے کہا اے ابو درداء ! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے اور تیرے رب کا حق ہے اور تیری بیوی کا حق ہے لہٰذا تو روزہ رکھ اور کبھی چھوڑدے اور نماز پڑھ اور اپنی بیوی کی خبر لے اور حق والے کو اس کا حق دے ۔ جب صبح قریب ہوئی تو اس نے کہا : اٹھو اگر چاہت ہو تو اب قیام کرو۔ وہ کہتے ہیں : پھر وہ کھڑے ہوئے وضو کیا دورکعات پڑھیں اور مسجد کی طرف نکل گئے ۔ ابودرداء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دیں جو کچھ سلمان نے کہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو درداء ! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ایسے ہی جیسے سلمان نے کہا ہے۔