(۸۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ عَطَائٌ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فِی نَاسٍ مَعِی قَالَ : أَہْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْحَجِّ خَالِصًا لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ خَالِصًا وَحْدَہُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ : وَقَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَکَّۃَ صَبِیحَۃَ رَابِعَۃٍ مَضَتْ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَحِلُّوا وَأَصِیبُوا النِّسَائَ))۔ قَالَ عَطَائٌ : فَلَمْ یَعْزِمْ عَلَیْہِمْ أَنْ یُصِیبُوا النِّسَائَ وَلَکِنْ أَحَلَّہُنَّ لَہُمْ قَالَ فَبَلَغَہُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ : لَمَّا لَمْ یَکُنْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ إِلاَّ خَمْسًا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَی نِسَائِنَا، وَنَأْتِیَ عَرَفَۃَ تَقْطُرُ مَذَاکِیرُنَا الْمَنِیَّ قَالَ وَیَقُولُ جَابِرٌ بِیَدِہِ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی یَدِہِ یُحَرِّکُہَا فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّی أَتْقَاکُمْ لِلَّہِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ ، وَلَوْلاَ الْہَدْیُ لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَیْتُ))۔ قَالَ فَأَحْلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔ قَالَ جَابِرٌ : فَقِدَمَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ سَعَایتِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((بِماَ أَہْلَلْتَ یَا عَلِیُّ))۔ قَالَ : بِمَا أَہَلَّ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : ((فَأَہْدِ ، ثُمَّ امْکُثْ حَرَامًا کَمَا أَنْتَ))۔ قَالَ فَأَہْدَی لَہُ عَلِیٌّ ہَدْیًا قَالَ فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ : مُتْعَتُنَا ہَذِہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لِعَامِنَا ہَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ))۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۹۳۳۔ مسلم ۱۲۱۳]
(٨٦٨٦) عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو اپنے ساتھ موجود لوگوں میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) نے صرف حج کے لیے احرام باندھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ پہنچے تو آپ نے فرمایا : احرام کھول دو اور عورتوں سے مباشرت کرو ۔ عطاء کہتے ہیں کہ عورتوں سے مباشرت ان کے لیے لازم قرار نہیں دی تھی ، بلکہ صرف اس کو حلال قرار دیا تھا، جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہماری طرف سے یہ خبر پہنچی کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ دن رہ گئے ہوں تو انھوں نے ہمارے لیے عورتوں کو حلال قرار دے دیا ہے اور ہم عرفہ میں اپنے ذکروں سے منی ٹپکاتے ہوئے پہنچیں گے اور جابر (رض) اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے، گویا کہ میں اب بھی اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں، حرکت کرتا ہوا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ، سچا اور نیک ہوں، اور اگر ” ہدی “ نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح حلال ہوجاتا اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوجاتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی کا جانور نہ لے کر آتا “ جابر (رض) فرماتے ہیں : تو ہم حلال ہوگئے، ہم نے سنا اور اطاعت کی، علی بن ابی طالب (رض) پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : علی تو نے کیا تلبیہ کہا ہے ؟ کہنے لگے : جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا : پھر قربانی لا اور احرام کی حالت میں رہ جس طرح تو ہے تو علی (رض) ان کے لیے قربانی لائے، سراقہ بن مالک نے پوچھا : یہ حج تمتع ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔