(۸۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ قَیْسَ بْنَ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَنِی إِلَی الْیَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُہُ فِی الْعَامِ الَّذِی حَجَّ فِیہِ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا أَبَا مُوسَی کَیْفَ قُلْتَ حِینَ أَحْرَمْتَ؟))۔ قَالَ : قُلْتُ إِہْلاَلٌ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ فَقَالَ : ((ہَلْ سُقْتَ ہَدْیًا؟))۔ قُلْتُ : لاَ قَالَ : ((فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ أَحِلَّ))۔ فَانْطَلَقْتُ فَطُفْتُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَی نِسْوَۃٍ مِنْ آلِ قَیْسٍ یَعْنِی عَمَّاتِہِ فَمَشَطْنَ رَأْسِیَ بِالْغِسْلِ ، فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فِی إِمَارَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمْتُ حَاجًّا فَبَیْنَا أَنَا أُحَدِّثُ النَّاسَ عِنْدَ الْبَیْتِ بِمَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : دُونَکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ بِحَدِیثِکَ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فِی النُّسُکِ فَقُلْتُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ سَمِعَ شَیْئًا فَلاَ یَأْخُذْ بِہِ حَتَّی یَقْدَمَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فَبِہِ ائْتَمُّوا ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قُلْتُ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَحَدَثَ فِی النُّسُکِ شَیْئٌ؟ فَغَضِبَ عُمَرُ مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : أَجَلْ لَئِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللَّہِ فَقَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَنَا فَإِنَّہُ لَمْ یَحِلَّ حَتَّی بَلَغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۲۱]
(٨٦٨٧) ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا تو میں آپ کو اس سال ملا جس سال آپ نے حج کیا تو آپ نے مجھے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! جب تو نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کرنے کی نیت کی تھی، آپ نے پوچھا : کیا تو قربانی کا جانور لایا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا بیت اللہ کا طواف کر اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہوجا۔ تو میں گیا اور میں نے صفا ومروہ کی سعی کی، پھر میں آل ِقیس کی عورتوں یعنی اپنی پھوپھیوں کے پاس گیا، انھوں نے میرا سر دھویا اور کنگھی کی، پھر اس کے بعد عمر (رض) کے دور خلافت میں میں حج کرنے کے لیے آیا تو اس دوران کہ میں لوگوں کو وہ بات بتارہا تھا جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی ایک شخص آیا اور کہنے لگا : بچ کر رہو اپنی اس بات کی بنا پر آپ کو پتہ نہیں کہ امیرالمومنین نے مناسک حج میں کیا اضافہ کیا ہے ؟ تو میں نے کہا : اے لوگو ! جس نے کوئی بھی بات سنی ہے وہ اس کا اعتبار نہ کرے حتیٰ کہ امیر المومنین تشریف لے آئیں۔ پس انہی کی اقتدا کرو۔ جب عمر (رض) تشریف لائے تو میں نے کہا : کیا طریقۂ حج میں کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے ؟ تو عمر (رض) اس بات سے غصے ہوئے ، پھر کہا : ہاں اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ نے مکمل کرنے کا حکم دیا اور اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیں تو آپ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔