(۸۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِہَابٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ مُنِیخٌ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ لِی : ((کَیْفَ أَہْلَلْتَ؟))۔ قَالَ قُلْتُ : لَبَّیْکَ بِإِہْلاَلٍ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ أَحِلَّ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ طَاوُسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ لاَ یُسَمِّی حَجًّا وَلاَ عَمْرَۃً یَنْتَظِرُ الْقَضَائَ فَنَزَلَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ وَہُوَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ أَہَلَّ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ أَنْ یَجْعَلَہَا عُمْرَۃً۔
وَأَکَّدَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ الْمُرْسَلَۃَ بِأَحَادِیثَ مَوْصُولَۃٍ رُوِیَتْ فِی إِحْرَامِہِمْ تَشْہَدُ لِرِوَایَۃِ طَاوُسٍ بِالصِّحَّۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۴۔ مسلم ۱۲۲۱]
(٨٦٨٨) (الف) ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب آپ بطحا میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے تو آپ نے مجھے کہا : تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا ؟ میں نے کہا : لَبَّیْکَ بِإِہْلاَلٍ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ آپ نے فرمایا : تو نے اچھا کیا ہے، بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر، پھر حلال ہوجا اور لمبی حدیث بیان کی۔
(ب) طاؤس کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے نکلے نہ آپ نے حج کا نام لیا اور نہ عمرہ کا، آپ فیصلہ (وحی) کے منتظر تھے، آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا مروہ کے درمیان تھے تو جو آپ کے ساتھ تھے انھیں تلبیہ پکارنے کا کہا اور جن کے پاس قربانی نہ تھی تو اس کو عمرہ قرر دے دیا۔