hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8706

.

سنن البيهقي

8706
Sunan Al Bayhaqi
(۸۷۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : نَزَلَتْ فَرِیضَۃُ الْحَجِّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بَعْدَ الْہِجْرَۃِ وَافْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَکَّۃَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ ، وَانْصَرَفَ عَنْہَا فِی شَوَّالٍ ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَیْہَا عَتَّابَ بْنَ أَسِیدٍ فَأَقَامَ الْحَجَّ لِلمُسْلِمِینَ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ قَادِرٌ عَلَی أَنْ یَحُجَّ وَأَزْوَاجُہُ وَعَامَّۃُ أَصْحَابِہِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ تَبُوکَ فَبَعَثَ أَبَا بَکْرٍ فَأَقَامَ الْحَجَّ لِلنَّاسِ سَنَۃَ تِسْعٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ قَادِرٌ عَلَی أَنْ یَحُجَّ لَمْ یَحُجَّ ہُوَ وَلاَ أَزْوَاجُہُ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی حَجَّ سَنَۃَ عَشْرٍ فَاسْتَدْلَلْنَا عَلَی أَنَّ الْحَجَّ فَرْضُہُ مَرَّۃٌ فِی الْعُمُرِ أَوَّلُہُ الْبُلُوغُ وَآخِرُہُ أَنْ یَأْتِیَ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَوْجُودٌ فِی الأَخْبَارِ وَالتَّوَارِیخِ أَمَّا مَا ذَکَرَہُ مِنْ نُزُولِ فَرِیضَۃِ الْحَجِّ بَعْدَ الْہِجْرَۃِ فَکَمَا قَالَ وَاسْتَدَلَّ أَصْحَابُنَا بِحَدِیثِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ عَلَی أَنَّہَا نَزَلَتْ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ۔ [صحیح۔ کتاب الام ۲/ ۱۶۷]
(٨٧٠٣) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ حج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہجرت کے بعد فرض ہوا اور مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے مہینے میں فتح فرمایا اور وہاں سے شوال کو نکلے ، وہاں عتاب بن اسید کو خلیفہ مقرر کیا تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے لیے حج کا اہتمام کیا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تھے اور آپ کی ازواج مطہرات بھی اور اکثر صحابہ بھی ، حالاں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کرسکتے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آئے تو ابوبکر (رض) کو بھیجا ، انھوں نے نویں سال لوگوں کو حج کروایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں ہی تھے، آپ حج کرنے کی قدرت رکھتے تھے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کی ازواج مطہرات نے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے کسی نے بھی حج نہ کیا حتیٰ کہ ہجرت کے دسویں سال آپ نے حج فرمایا : تو ہم اس بات سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حج کا فریضہ بلوغت سے لے کر موت سے پہلے پہلے ایک مرتبہ عمر بھر میں عائد ہوتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ بات جو امام شافعی (رض) نے ذکر کی ہے، آثار اور تواریخ (کی کتب) میں موجود ہے، رہی وہ بات جو انھوں نے ذکر کی کہ فریضہ حج کا نزول ہجرت کے بعد ہے تو ان کی بات درست ہے، ہمارے اصحاب نے کعب بن عجرہ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ اس کی فرضیت (صلح) حدیبیہ کے وقت کی ہے۔