hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9609

.

سنن البيهقي

9609
Sunan Al Bayhaqi
(۹۶۰۴)وَأَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ مَعَ آخِرِ حَصَاۃٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : تَکْبِیرُہُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی قَطْعِہِ التَّلْبِیَۃَ بِأَوَّلِ حَصَاۃٍ کَمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلُہُ : یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ أَرَادَ بِہِ حَتَّی أَخَذَ فِی رَمْیِ الْجَمْرَۃِ وَأَمَّا مَا فِی رِوَایَۃِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَإِنَّہَا غَرِیبَۃٌ أَوْرَدَہَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَاخْتَارَہَا وَلَیْسَتْ فِی الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۷۹۔ بزار: ۲۱۴۲]
(٩٦٠٤) فضل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔
(ب) شیخ (رض) فرماتے ہیں : ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول : یلبی۔۔۔ کہ وہ تلبیہ کہتے حتیٰ کہ رمی جمار کرلیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے ” حتی اخذ فی رمی الجمرۃ “
اور باقی فضل بن عباس والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ صاحب (رض) فرماتے ہیں : ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔