hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9610

.

سنن البيهقي

9610
Sunan Al Bayhaqi
(۹۶۰۵)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ : بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ : غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ رَجُلاً آدَمَ لَہُ ضَفِیرَتَانِ عَلَیْہِ مَسْحَۃُ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ وَکَانَ یُلَبِّی فَاجْتَمَعَ عَلَیْہِ غَوْغَائٌ مِنْ غَوْغَائِ النَّاسِ فَقَالُوا : یَا أَعْرَابِیُّ إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِیَوْمِ تَلْبِیَۃٍ إِنَّمَا ہُوَ التَّکْبِیرُ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : جَہِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا وَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا -ﷺ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ فَمَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ إِلاَّ أَنْ یَخْلِطَہَا بِتَکْبِیرٍ أَوْ تَہْلِیلٍ۔ وَقَدْ رُوِّینَا مَعْنَی ہَذَا مُخْتَصَرًا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ ۲۸۰۶۔ حاکم ۱/ ۶۳۲]
(٩٦٠٥) عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر اہل بادیہ والی چادر تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انھوں نے کہا : اے اعرابی ! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے ، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے تو اس وقت انھوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا : لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا ، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔