(۹۶۵۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ وَأَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالُوا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَاہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : مَا لِی أَرَی بَنِی عَمِّکُمْ یَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِیذَ أَمِنْ حَاجَۃٍ بِکُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْحَمْدُ لِلَّہِ مَا بِنَا حَاجَۃٌ وَلاَ بُخْلٌ قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَخَلْفَہُ أُسَامَۃُ فَاسْتَسْقَی فَأَتَیْنَاہُ بِإِنَائٍ مِنْ نَبِیذٍ فَشَرِبَ وَسَقَی فَضْلَہُ أُسَامَۃَ وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ ۔ کَذَا فَاصْنَعُوا فَلاَ نُرِیدُ تَغْیِیرَ مَا أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِنْہَالٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۱۶]
(٩٦٥٤) بکر بن عبداللہ مزنی فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا : کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں تمہارے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو ؟ کیا تم ضرورت مند ہو یا کنجوسی کی وجہ سے ایسا کرتے ہو ؟ تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئی حاجت یا کمی نہیں ہے اور نہ ہی کنجوسی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر تشریف لائے اور ان کے پیچھے اسامہ (رض) تھے، انھوں نے پانی طلب کیا تو ہم نے انھیں نبیذ کا برتن دیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا اور بچا ہوا اسامہ کو دیا اور فرمایا : تم نے اچھا اور خوب کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو۔ ہم نہیں چاہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم میں تبدیلی کریں۔