(۹۷۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلاَثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَہْرُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ ذُو الْحِجَّۃِ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی ضُلاَّلاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلَّغُہُ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ۔ لَمْ یَسُقِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَتْنَہُ وَقَالَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۰۲۵۔ مسلم۱۶۷۹]
(٩٧٧٣) حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے، جس دن اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال بھر میں ١٢ مہینے ہیں : چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں : 1 ذوالقعدہ 2 ذوالحجہ 3 محرم اور 4 رجب قبیلہ مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ صحابہ (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کرلیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ خاص شہر یعنی مکہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ہم نے گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیوں نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے خون و اموال، راوی محمد فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور مہینہ کے اندر ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، یعنی قتل کرو۔ خبردار ! حاضر غائب تک یہ بات پہنچا دے۔ شاید کہ جس کو بات پہنچی ہے وہ زیادہ یاد رکھے سننے والے سے۔ پھر فرمایا : کیا میں نے پہنچا دیا ہے۔ لیکن امام شافعی (رض) نے یہ متن بیان نہیں کیا۔
(ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم آیا ہے۔